ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دہلی نظام الدین مرکز سے 200 مشتبہ افراد اسپتال داخل، ڈرون سے چپہ چپہ کی نگرانی

دہلی نظام الدین مرکز سے 200 مشتبہ افراد اسپتال داخل، ڈرون سے چپہ چپہ کی نگرانی

Tue, 31 Mar 2020 07:17:48    S.O. News Service

نئی دہلی،31؍مارچ (ایس او نیوز؍یواین آئی) کرونا کے بڑھتے ہوئے انفیکشن کے خطرے کے پیش نظر جنوب مشرقی دہلی کے نظام الدین میں واقع تبلیغی جماعت کے مرکز سے دس سے زیادہ ممالک کے شہریوں سمیت 200 لوگوں کو یہاں الگ الگ اسپتالوں میں جانچ کے لئے بھیجا گیا ہے۔

میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق مرکز میں تقریباً600لوگ تھے جن میں سے فی الحال 200 لوگوں کو کرونا کے انفیکش کی جانچ کے لئے الگ الگ اسپتالوں میں بھرتی کرایا گیا ہے اور مرکز کے اردگرد کے علاقوں کوپوری طرح سیل کردیا گیا ہے۔ جن لوگوں کو جانچ کے لئے لے جایا گیا ہے ان میں بنگلہ دیش، سری لنکا، افغانستان، ملائشیا، سعودی عرب، انگلینڈ اور چین کے تقریبا 100 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔

 بتایاجارہاہے کہ اتوار کو تمل ناڈو کے ایک 64 سالہ شخص کی موت ہوگئی تھی جو مرکز میں رکا ہوا تھا۔ متوفی کی حالانکہ ابھی جانچ رپورٹ نہیں آئی ہے۔ مگراس واقعہ کے بعد پولس نے جانچ شروع کردی - معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس علاقے میں ڈرون کیمروں سے نگرانی کررہی ہے۔

مرکز سے کچھ ہی دور واقع مشہور صوفی نظام الدین اولیاء کا مزار ہے جہاں بڑی تعداد میں زائرین آتے ہیں لیکن ان دنوں درگاہ پوری طرح بند ہے-  پورے علاقہ کا محاصرہ کرلیا گیا ہے اور ڈرون کی مدد سے چپہ چپہ کی نگرانی کی جارہی ہے -

واضح رہے کہ نظام الدین میں واقع مرکز دنیا میں اسلام کی تبلیغ کی تشہیر کا سب سے اہم مرکز ہے جہاں  کئی ممالک سے لوگ آتے ہیں -مرکز کے مشتبہ افراد  سردی، زکام، کھانسی وغیرہ میں مبتلا ہیں۔

بتایا جا رہا ہے کہ لاک ڈاؤن  سے پہلے مرکز میں تقریباً 2000 ہزار لوگ موجود تھے لیکن کچھ لوگ مختلف ریاستوں میں چلے گئے تھے۔ مرکز میں وقت گزارکر یہاں سے جانے والوں میں 6 افراد کورونا وائرس سے متاثر پائے گئے ہیں جبکہ جس شخص کی موت ہوئی ہے اسکی ابھی جانچ رپورٹ نہیں آئی ہے۔ مرکز کے زمہ داران کا کہنا ہے کہ کسی کی بھی رپورٹ کورونا پوزیٹیو نہیں آ ئی ہے۔

محکمہ صحت، عالمی ادارہ صحت، میونسپل اور دہلی پولیس کی ٹیم مرکز سے لوگوں کو نکالنے کا کام کر رہے ہیں

ایک پولیس افسر نے بتایا کہ لاک ڈاؤن سے پہلے ہی یہاں سے بھیڑ ہٹانے اور سوشل ڈسٹینسنگ کے لئے کہا جا رہا تھا لیکن مرکز کے لوگوں نے ان کی بات نہیں سنی۔ یہاں رہنے والے لوگوں میں بڑی تعداد میں 60 سال سے زیادہ عمر کے لوگ ہیں۔مرکز کے لوگوں نے لاک ڈاؤن کے ساتھ ساتھ اس بیماری کو بھی سرسری طورپر لیا۔

مرکز سے کچھ ہی دوری پر مشہور صوفی نظام الدین اولیاء کی درگاہ ہے جہاں پر بڑی تعداد میں زائرین آتے ہیں لیکن ان دنوں درگاہ مکمل طور بند ہے۔


Share: